کُلّیاتِ غالبؔ

؂۱

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی

مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی
کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی

یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی

  1. ؂۱یہ اشعار نسخۂ حمیدیہ کے ایک قصیدے کے ہیں۔ غالبؔ نے وہیں سے الگ کر کے اپنے دیوان (اشاعت اول) میں بطور غزل شامل کر لیے۔ —نسخۂ رضا